55: بَابُ: الْمَوْقِفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں کہاں ٹھہرے؟
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3012
حدثنا هشام بن عمار ، حدثنا القاسم بن عبد الله العمري ، حدثنا محمد بن المنكدر ، عن جابر بن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"كل عرفة موقف، وارفعوا عن بطن عرفة، وكل المزدلفة موقف، وارتفعوا عن بطن محسر، وكل منى منحر، إلا ما وراء العقبة".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا (مزدلفہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر (مذبح) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے“ ۱؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3069، ومصباح الزجاجة: 1052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 65 (1936)، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921) (صحیح) (سند میں قاسم بن عبداللہ العمری متروک راوی ہے، اس لئے إلا ما وراء العقبة کے لفظ کے ساتھ یہ صحیح نہیں ہے، اصل حدیث کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1665 - 692 1 - 1693)
وضاحت: ۱؎: بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہ میدان عرفات کی حد سے باہر ہے۔ بطن محسر سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہاں منیٰ کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله إلا ما وراء العقبة
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
إسناده ضعيف جدًا ¤ القاسم بن عبدالله : متروك (تق:5468) وأصل الحديث صحيح إلا ” ماوراء العقبة “ انظر صحيح مسلم (1218)