احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

76: بَابُ: الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3057
حدثنا إسماعيل بن توبة ، حدثنا زافر بن سليمان ، عن ابي سنان ، عن عمرو بن مرة ، عن مرة ، عن عبد الله بن مسعود ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على ناقته المخضرمة بعرفات فقال:"اتدرون اي يوم هذا، واي شهر هذا، واي بلد هذا ؟"، قالوا: هذا بلد حرام، وشهر حرام، ويوم حرام، قال:"الا وإن اموالكم ودماءكم عليكم حرام، كحرمة شهركم هذا، في بلدكم هذا، في يومكم هذا، الا وإني فرطكم على الحوض، واكاثر بكم الامم فلا تسودوا وجهي، الا وإني مستنقذ اناسا، ومستنقذ مني اناس، فاقول: يا رب اصيحابي، فيقول: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں (عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے (فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے)، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9557، ومصباح الزجاجة: 1061) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے، مسلمانوں کو مارا، اور اصحاب سے مراد یہ ہے کہ میری امت کے لوگ ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: