احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

5: بَابُ: الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3849
حدثنا ابو بكر , وعلي بن محمد , قالا: حدثنا عبيد بن سعيد , قال: سمعت شعبة , عن يزيد بن خمير , قال: سمعت سليم بن عامر يحدث , عن اوسط بن إسماعيل البجلي , انه سمع ابا بكر , حين قبض النبي صلى الله عليه وسلم , يقول: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في مقامي هذا عام الاول , ثم بكى ابو بكر , ثم قال:"عليكم بالصدق فإنه مع البر , وهما في الجنة , وإياكم والكذب فإنه مع الفجور , وهما في النار , وسلوا الله المعافاة , فإنه لم يؤت احد بعد اليقين خيرا من المعافاة , ولا تحاسدوا , ولا تباغضوا , ولا تقاطعوا , ولا تدابروا , وكونوا عباد الله إخوانا".
1 اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۱؎۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6586، ومصباح الزجاجة: 1348)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 106 (3558)، مسند احمد (1/3، 5، 7، 8) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: