📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 998 Jami at-Tirmidhi 998
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
21: باب مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُصْنَعُ لأَهْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْنَعُوا لِأَهْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ شَيْءٌ لِشُغْلِهِمْ بِالْمُصِيبَةِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَجَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ: هُوَ ابْنُ سَارَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ.
عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب جعفر طیار کے مرنے کی خبر آئی ۱؎ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاؤ ، اس لیے کہ آج ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جس میں وہ مشغول ہیں “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم میت کے گھر والوں کے مصیبت میں پھنسے ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں کچھ بھیجنے کو مستحب قرار دیتے ہیں ۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے ، ¤ ۳- جعفر بن خالد کے والد خالد سارہ کے بیٹے ہیں اور ثقہ ہیں ۔ ان سے ابن جریج نے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 998]
💡 وضاحت:
۱؎: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کی شہادت ۸ھ میں غزوہ موتہ میں ہوئی تھی، ان کی موت یقیناً سب کے لیے خاص کر اہل خانہ کے لیے رنج و غم لے کر آئی۔
۲؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانا بھیج دیں۔ مگر آج کے مبتدعین نے معاملہ الٹ دیا، تیجا، قل، ساتویں اور چالیسویں جیسی ہندوانہ رسمیں ایجاد کر کے میت کے ورثاء کو خوب لوٹا جاتا ہے، «العیاذ باللہ من ہذہ الخرافات» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1610)، المشكاة (1739)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الجنائز 30 (3132)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 59 (1610) (تحفة الأشراف: 5217) (حسن)
جامع الترمذي • حدیث #998
996 997 998 999 1000
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ