جامع الترمذي حدیث نمبر: 996
Jami at-Tirmidhi 996
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ ". قَالَ: فَذَكَرُوا لِعَائِشَةَ قَوْلَهُمْ: فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ: قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید ۱؎ یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا ۲؎ نہ ان میں قمیص ۳؎ تھی اور نہ عمامہ ۔ لوگوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے کہا : لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا ؟ تو ام المؤمنین عائشہ نے کہا : چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے واپس کر دیا تھا ، آپ کو اس میں نہیں کفنایا گیا تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 996]
💡 وضاحت:
۱؎: تین سفید کپڑوں سے مراد تین بڑی چادریں ہیں اور بعض کے نزدیک کفنی، تہ بند اور بڑی چادر ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ کفن تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ (پگڑی) جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے سراسر بدعت ہے رہی ابن عباس کی روایت جس میں ہے «كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة أثواب بحرانية: الحلة، ثوبان، وقميصه الذي مات فيه» تو یہ منکر ہے اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، اسی طرح عبادہ بن صامت کی حدیث «خير الكفن الحلة» بھی ضعیف ہے اس کے راوی نسي مجہول ہیں۔
۳؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کفن میں قمیص مستحب نہیں جمہور کا یہی قول ہے، لیکن مالکیہ اور حنفیہ استحباب کے قائل ہیں، وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس میں احتمال یہ ہے کہ دونوں ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ شمار کی گئی چیز کی نفی ہو یعنی قمیص اور عمامہ ان تینوں میں شامل نہیں تھے بلکہ یہ دونوں زائد تھے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ پہلا احتمال ہی صحیح ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کفن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ کفن تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ (پگڑی) جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے سراسر بدعت ہے رہی ابن عباس کی روایت جس میں ہے «كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة أثواب بحرانية: الحلة، ثوبان، وقميصه الذي مات فيه» تو یہ منکر ہے اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، اسی طرح عبادہ بن صامت کی حدیث «خير الكفن الحلة» بھی ضعیف ہے اس کے راوی نسي مجہول ہیں۔
۳؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کفن میں قمیص مستحب نہیں جمہور کا یہی قول ہے، لیکن مالکیہ اور حنفیہ استحباب کے قائل ہیں، وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس میں احتمال یہ ہے کہ دونوں ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ شمار کی گئی چیز کی نفی ہو یعنی قمیص اور عمامہ ان تینوں میں شامل نہیں تھے بلکہ یہ دونوں زائد تھے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ پہلا احتمال ہی صحیح ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کفن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1469)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/ الجنائز 34 (3152)، سنن النسائی/الجنائز 39 (900)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 11 (1469)، (تحفة الأشراف: 16786) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 18 (1264)، و23 (1271)، و24 (1272)، و94 (1387)، صحیح مسلم/الجنائز (المصدرالمذکور)، الجنائز (3151)، سنن النسائی/الجنائز 39 (1898 و1899)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5)، مسند احمد (6/40، 93، 118، 132، 165، 231) من غیر ہذا الوجہ۔