جامع الترمذي حدیث نمبر: 984
Jami at-Tirmidhi 984
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
12: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّعْىِ
باب: موت کی خبر دینے کی کراہت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، وَهَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ. وَفِي الْبَاب، عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «نعی» ( موت کی خبر دینے ) ۱؎ سے بچو ، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے “ ۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 984]
💡 وضاحت:
۱؎: کسی کی موت کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے، اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہما کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، یہاں جس «نعی» سے بچنے کا ذکر ہے اس سے اہل جاہلیت کی «نعی» ہے، زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مر جاتا تھا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف تخريج إصلاح المساجد (108) // ضعيف الجامع الصغير (2211) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(984،985) إسناده ضعيف ¤ أبوحمزة مسلم بن كيسان الأعور ضعيف (تق: 6641)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9461) (ضعیف) (سند میں میمون ابو حمزہ اعور ضعیف راوی ہیں)