جامع الترمذي حدیث نمبر: 981
Jami at-Tirmidhi 981
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
9: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ حَافِظَيْنِ رَفَعَا إِلَى اللَّهِ مَا حَفِظَا مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَيَجِدُ اللَّهُ فِي أَوَّلِ الصَّحِيفَةِ وَفِي آخِرِ الصَّحِيفَةِ خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي مَا بَيْنَ طَرَفَيِ الصَّحِيفَةِ ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی دونوں لکھنے والے ( فرشتے ) دن و رات کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دفتر کے شروع اور اخیر میں خیر ( نیک کام ) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے : ” میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف کر دینے جو اس دفتر کے دونوں کناروں شروع اور اخیر کے درمیان میں ہیں “ “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 981]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(981) إسناده ضعيف ¤ تمام بن نجيح: ضعيف (د 4854)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (التحفہ: 533) (ضعیف جداً) (اس کے راوی تمام بن نجیح ضعیف ہیں)