جامع الترمذي حدیث نمبر: 980
Jami at-Tirmidhi 980
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
8: باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِنْدَ الْمَوْتِ
باب: موت کے وقت کی سختی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ "، قِيلَ: وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ؟ قَالَ: " مَوْتُ الْفَجْأَةِ ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں “ ۔ عرض کیا گیا : گدھے کی موت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اچانک موت “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 980]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(980) ضعيف ¤ حسام بن مصك: ضعيف يكاد أن يترك (تق:1193) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 533) (ضعیف جداً) (سند میں حسام متروک راوی ہے)