📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 975 Jami at-Tirmidhi 975
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
6: باب مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَقَالَ: " أَوْصَيْتَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " بِكَمْ "، قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: " فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟ " قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ، قَالَ: " أَوْصِ بِالْعُشْرِ "، فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: " أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَنَحْنُ نَسْتَحِبُّ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ: " وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ "، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ أَنْ يُوصِيَ الرَّجُلُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، وَيَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ، قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ فِي الْوَصِيَّةِ الْخُمُسَ دُونَ الرُّبُعِ، وَالرُّبُعَ دُونَ الثُّلُثِ، وَمَنْ أَوْصَى بِالثُّلُثِ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا وَلَا يَجُوزُ لَهُ إِلَّا الثُّلُثُ.
سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت فرمائی ، میں بیمار تھا ۔ تو آپ نے پوچھا : کیا تم نے وصیت کر دی ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ( کر دی ہے ) ، آپ نے فرمایا : ” کتنے کی ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی ۔ آپ نے پوچھا : ” اپنی اولاد کے لیے تم نے کیا چھوڑا ؟ “ میں نے عرض کیا : وہ مال سے بے نیاز ہیں ، آپ نے فرمایا : ” دسویں حصے کی وصیت کرو “ ۔ تو میں برابر اسے زیادہ کراتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” تہائی مال کی وصیت کرو ، اور تہائی بھی زیادہ ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تہائی مال کی وصیت بھی زیادہ ہے مستحب یہی سمجھتے ہیں کہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کی جائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سعد رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- سعد رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسرے اور طرق سے بھی مروی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ اور ان سے «والثلث كثير» کی جگہ «والثلث كبير» ” تہائی بڑی مقدار ہے “ بھی مروی ہے ، ¤ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ اس بات کو صحیح قرار نہیں دیتے کہ آدمی تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور مستحب سمجھتے ہیں کہ تہائی سے کم کی وصیت کرے ، ¤ ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں : لوگ چوتھائی حصہ کے مقابل میں پانچویں حصہ کو اور تہائی کے مقابلے میں چوتھائی حصہ کو مستحب سمجھتے تھے ، اور کہتے تھے کہ جس نے تہائی کی وصیت کر دی اس نے کچھ نہیں چھوڑا ۔ اور اس کے لیے تہائی سے زیادہ جائز نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 975]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2708)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الوصایا 3 (3661)، (تحفة الأشراف: 3898) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 36 (1295)، والوصایا 2 (2742)، ومناقب الأنصار 49 (3936)، والمغازي 77 (4395)، والنفقات 1 (5354)، المرضی 13 (5659)، والدعوات 43 (6373)، والفرائض 6 (6733)، صحیح مسلم/الوصایا 2 (1628)، سنن ابی داود/ الوصایا 2 (2864)، سنن النسائی/الوصایا 3 (3656، 3660، 3661، 3662، 3665)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 5 (2708)، موطا امام مالک/الوصایا 3 (4)، مسند احمد (1/168، 172، 176، 179)، سنن الدارمی/الوصایا 7 (3238، 3239) والمؤلف/الوصایا 1 (2116) من غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #975
973 974 975 976 977
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ