جامع الترمذي حدیث نمبر: 974
Jami at-Tirmidhi 974
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
5: باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت کرنے پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مسلمان ، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو ، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 974]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2699)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الوصایا 1 (1627)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 2 (2699)، (تحفة الأشراف: 7944) (صحیح) مسند احمد (2/57، 80)، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا 3 (2118)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوصایا 1 (2738)، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الوصایا 1 (3645، 3646، 3648)، موطا امام مالک/الوصایا 1 (1)، مسند احمد (2/4، 10، 34، 50، 113)، سنن الدارمی/الوصایا 1 (3239)، من غیر ہذا الوجہ۔