جامع الترمذي حدیث نمبر: 921
Jami at-Tirmidhi 921
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
81: باب مَا جَاءَ فِي نُزُولِ الأَبْطَحِ
باب: وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ نُزُولَ الْأَبْطَحِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرَوْا ذَلِكَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ ہم اسے صرف عبدالرزاق کی سند سے جانتے ہیں ، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، ابورافع اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم نے ابطح میں قیام کو مستحب قرار دیا ہے ، واجب نہیں ، جو چاہے وہاں قیام کرے ، ¤ ۴- شافعی کہتے ہیں : ابطح کا قیام حج کے مناسک میں سے نہیں ہے ۔ یہ تو بس ایک مقام ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 921]
💡 وضاحت:
۱؎: ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3069)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3069) (تحفة الأشراف: 8025) (صحیح) وأخرجہ مسلم فی الحج (59/1310) من غیر ہذا الوجہ)