جامع الترمذي حدیث نمبر: 919
Jami at-Tirmidhi 919
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
79: باب مَا جَاءَ مَتَى تُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِي الْعُمْرَةِ
باب: عمرہ میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ " أَنَّهُ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا انْتَهَى إِلَى بُيُوتِ مَكَّةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کر لیتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کر لے ، ¤ ۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے ۔ لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مذکورہ ) حدیث پر ہے ۔ یہی سفیان ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 919]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، والصحيح موقوف على ابن عباس، الإرواء (1099)، ضعيف أبي داود (316) // عندنا برقم (397 / 1817) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(919) إسناده ضعيف / د 1817
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحج 29 (1817) (تحفة الأشراف: 5958) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں)