جامع الترمذي حدیث نمبر: 904
Jami at-Tirmidhi 904
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
66: باب مَا جَاءَ فِي الاِشْتِرَاكِ فِي الْبَدَنَةِ وَالْبَقَرَةِ
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَحَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ وَرُوِي، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورَ عَنْ عَشَرَةٍ ". وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر ( ذبح ) کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر ، ابوہریرہ ، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہو گی ۔ اور یہی سفیان ثوری ، شافعی اور احمد کا قول ہے ، ¤ ۴- ابن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہو گا ۱؎ ۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے ۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں ( ملاحظہ ہو آنے والی حدیث : ۹۰۵ ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 904]
💡 وضاحت:
۱؎: جابر رضی الله عنہ کی یہ حدیث حج و عمرہ کے «ھدی» کے بارے میں ہے، جس کے اندر ابن عباس رضی الله عنہما کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے (اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں، یعنی: ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3132)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 62 (1318)، سنن ابی داود/ الضحایا 7 (2809)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 5 (3132) (تحفة الأشراف: 2933)، موطا امام مالک/الضحایا 5 (9)، ویأتي عند المؤلف في الأضاحي 8 (1502) (صحیح) وأخرجہ کل من: (صحیح مسلم/المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ المصدر المذکور سنن النسائی/الضحایا 16 (4398) من غیر ہذا الطریق۔