جامع الترمذي حدیث نمبر: 902
Jami at-Tirmidhi 902
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
64: باب مَا جَاءَ كَيْفَ تُرْمَى الْجِمَارُ
باب: جمرات کی رمی کیسے کی جائے؟
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 902]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (2624)، ضعيف أبي داود (328) // عندنا برقم (410 / 1888) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحج 91 (1888) (تحفة الأشراف: 17533)، مسند احمد (6/139)، سنن الدارمی/المناسک 36 (1895) (ضعیف) (اس کے راوی ”عبیداللہ بن ابی زیاد“ ضعیف ہیں)