جامع الترمذي حدیث نمبر: 879
Jami at-Tirmidhi 879
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
50: باب مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى وَالْمُقَامِ بِهَا
باب: منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ قَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 879]
💡 وضاحت:
۱؎: منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حد وہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔
۲؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
۳؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
۲؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
۳؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح حجة النبى صلى الله عليه وسلم (69 / 55)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحج 51 (3004) (تحفة الأشراف: 5881) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن مسلم کے اندر ائمہ کا کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)