جامع الترمذي حدیث نمبر: 877
Jami at-Tirmidhi 877
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
49: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ وَالرُّكْنِ وَالْمَقَامِ
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حجر اسود جنت سے اترا ، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا ، لیکن اسے بنی آدم کے گناہوں نے کالا کر دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 877]
💡 وضاحت:
۱؎: زیادہ طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے کیونکہ عقلاً و نقلاً اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے حجر اسود کی تعظیم شان میں مبالغہ اور گناہوں کی سنگینی بتانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (2577)، التعليق الرغيب (2 / 123)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الحج 145 (2938) (تحفة الأشراف: 5571)، مسند احمد (1/307، 329، 373) (صحیح)