جامع الترمذي حدیث نمبر: 734
Jami at-Tirmidhi 734
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
35: باب صِيَامِ الْمُتَطَوِّعِ بِغَيْرِ تَبْيِيتٍ
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَيَقُولُ: " أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ " فَأَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ "، قَالَتْ: فَأَتَانِي يَوْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، قَالَ: " وَمَا هِيَ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " قَالَتْ: ثُمَّ أَكَلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو پوچھتے : ” کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ “ میں کہتی : نہیں ۔ تو آپ فرماتے : ” تو میں روزے سے ہوں “ ، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا چیز ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ” حیس “ ، آپ نے فرمایا : ” میں صبح سے روزے سے ہوں “ ، پھر آپ نے کھا لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 734]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا کھانا جو کھجور، ستّو اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، الإرواء (965)، صحيح أبي داود (2119)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن صحیح)