جامع الترمذي حدیث نمبر: 731
Jami at-Tirmidhi 731
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
34: باب مَا جَاءَ فِي إِفْطَارِ الصَّائِمِ الْمُتَطَوِّعِ
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَذْنَبْتُ فَاسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: " وَمَا ذَاكِ؟ " قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ، فَقَالَ: " أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِينَهُ "، قَالَتْ: لَا، قَالَ: " فَلَا يَضُرُّكِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَائِشَةَ.
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی ، آپ نے اس میں سے پیا ، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا ۔ پھر میں نے عرض کیا : میں نے گناہ کا کام کر لیا ہے ۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ میں نے کہا : میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا : ” کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی ؟ “ عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 731]
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج المشكاة (2079)، صحيح أبي داود (2120)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(731) ضعيف ¤ ھارون بن أم ھاني مجھول (تق:7251) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 18015) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ”سماک“ جب منفرد ہوں تو ان کی روایت میں بڑا اضطراب پایاجاتا ہے، یہی حال اگلی حدیث میں ہے)