جامع الترمذي حدیث نمبر: 601
Jami at-Tirmidhi 601
کتاب #7: کتاب: سفر کے احکام و مسائل
69: باب ذِكْرِ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَشْىِ وَالْعَمَلِ فِي صَلاَةِ التَّطَوُّعِ
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ، وَالْبَاب عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ". وَوَصَفَتِ الْبَاب فِي الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا ، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا ۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے ، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 601]
💡 وضاحت:
۱؎: سنت و نفل کے اندر اس طرح سے چلنا کہ قبلہ سے انحراف واقع نہ ہو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، صحيح أبي داود (855)، المشكاة (1005)، الإرواء (386)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(601) إسناده ضعيف / د 922، ن 1207
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 169 (922)، سنن النسائی/السہو 14 (1207)، (تحفة الأشراف: 16417)، مسند احمد (6/183، 2340) (حسن)