جامع الترمذي حدیث نمبر: 541
Jami at-Tirmidhi 541
کتاب #6: کتاب: عیدین کے احکام و مسائل
37: باب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ وَرُجُوعِهِ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، وَأَبُو زُرْعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي رَافِعٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَرَوَى أَبُو تُمَيْلَةَ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَقَدِ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلْإِمَامِ إِذَا خَرَجَ فِي طَرِيقٍ أَنْ يَرْجِعَ فِي غَيْرِهِ اتِّبَاعًا لِهَذَا الْحَدِيثِ. وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ كَأَنَّهُ أَصَحُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو دوسرے سے واپس آتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابورافع رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بطریق : «فليح بن سليمان ، عن سعيد بن الحارث ، عن جابر بن عبدالله» کی ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم نے اس حدیث کی پیروی میں امام کے لیے مستحب قرار دیا ہے کہ جب ایک راستے سے جائے تو دوسرے سے واپس آئے ۔ شافعی کا یہی قول ہے ، اور جابر کی حدیث ( بمقابلہ ابوہریرہ ) گویا زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 541]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مسلمانوں کو بھی راستہ تبدیل کر کے آنا جانا چاہیئے، کیونکہ اس سے ایک تو اسلام کی شان وشوکت کا مظاہرہ ہو گا دوسرے قیامت کے دن یہ دونوں راستے ان کی اس عبادت کی گواہی دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1301)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف من حدیث ابی ہریرة واخرجہ فی العیدین 24 (986) بنفس الطریق لکنہ من حدیث جابر، وقال حدیث جابر أصح (ای من حدیث ابی ہریرة) (تحفة الأشراف: 12937) (صحیح)