جامع الترمذي حدیث نمبر: 455
Jami at-Tirmidhi 455
کتاب #4: کتاب: صلاۃ وترکے ابواب
وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِهِ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری پہر میں نہیں اٹھ سکے گا ، تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے ۔ اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی امید رکھتا ہو تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے ، کیونکہ رات کے آخری حصے میں قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، یہ افضل وقت ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 455M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث أبو هريرة) صحيح، (حديث جابر) صحيح (حديث أبو هريرة)، صحيح أبي داود (1187)، (حديث جابر)، ابن ماجة (1187)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 21 (755)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1187)، (تحفة الأشراف: 2297)، مسند احمد (3/315، 337) (صحیح)