جامع الترمذي حدیث نمبر: 440
Jami at-Tirmidhi 440
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
213: باب مَا جَاءَ فِي وَصْفِ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ "
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی ۔ تو جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 440]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اضطجاع“ کے ثبوت کی صورت میں تہجد سے فراغت کے بعد داہنے کروٹ لیٹنے کی جو بات اس روایت میں ہے یہ کبھی کبھار کی بات ہے، ورنہ آپ کی زیادہ تر عادت مبارکہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کی تھی، اسی معنی میں ایک قولی روایت بھی ہے جو اس کی تائید کرتی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ۴۲۰)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا الاضطجاع فإنه شاذ، والمحفوظ أنه بعد سنة الفجر، صحيح أبي داود (1206)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
0(440) إسناده ضعيف ¤ ابن شھاب الزھري مدلس و عنعن (د 145) وأخرجه مسلم (736/121) بلفظ آخر وھو صحيح وانظر الحديث الآتي (الآصل:441) وعنده الإضطجاع بعد الركعتين وھو الصواب
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن ابی داود/ الصلاة 316 (1335)، سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1697)، و44 (1727)، (تحفة الأشراف: 16593)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 2 (8)، مسند احمد (6/35، 82) (صحیح) (اضطجاع کا ذکر صحیح نہیں ہے، صحیحین میں آیا ہے کہ اضطجاع فجر کی سنت کے بعد ہے)