📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل (أبواب السهو) 🏷️ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 439 Jami at-Tirmidhi 439
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
213: باب مَا جَاءَ فِي وَصْفِ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ
🏷️ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا " فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوسلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎ ، آپ ( دو دو کر کے ) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو ، پھر مزید چار رکعتیں ( دو ، دو کر کے ) پڑھتے ، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ۲؎ ، پھر تین رکعتیں پڑھتے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ فرمایا : ” عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں ، دل نہیں سوتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 439]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت ہے، اور تہجد اور تراویح دونوں ایک ہی چیز ہے۔
۲؎: یہاں «نہی» ممانعت مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔
۳؎: دل نہیں سوتا کا مطلب ہے کہ آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا، کیونکہ دل بیدار رہتا تھا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو رات کے آخری حصہ میں اپنے اٹھ جانے کا یقین ہو اسے چاہیئے کہ وتر عشاء کے ساتھ نہ پڑھے، تہجد کے آخر میں پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح صلاة التراويح، صحيح أبي داود (1212)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 16 (1147)، والتراویح 1 (2013)، والمناقب 24 (3569)، صحیح مسلم/المسافر 17 (738)، سنن ابی داود/ الصلاة 316 (1341)، سنن الترمذی/الصلاة 209 (439)، سنن النسائی/قیام اللیل 36 (1698)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 2 (9)، مسند احمد (6/36، 73، 104) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #439
437 438 439 440 441

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#440 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے ت...
#441 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ ...
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترم...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ