جامع الترمذي حدیث نمبر: 3565
Jami at-Tirmidhi 3565
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ: " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے اللہ ! اے لوگوں کے رب ! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے ، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3565]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10050) (حسن) (حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، صحیحین میں یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے آئی ہے)