جامع الترمذي حدیث نمبر: 3564
Jami at-Tirmidhi 3564
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
112: باب فِي دُعَاءِ الْمَرِيضِ
باب: مریض کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَغنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوِ اشْفِهِ " شُعْبَةُ الشَّاكُّ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت میں دعا کر رہا تھا : «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ” اے میرے رب ! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیسے کہا “ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا : «اللهم عافه أو اشفه» ” اے اللہ ! انہیں عافیت دے ، یا شفاء دے “ ، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3564]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6098)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 307 (1058) (تحفة الأشراف: 10187) (ضعیف) (سند میں ”عبد اللہ بن سلمہ“ حافظہ کے کمزور ہیں)