📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار (كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب:۔۔۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3471 Jami at-Tirmidhi 3471
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
62: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سو بار صبح اور سو بار شام تسبیح پڑھی ( یعنی «سبحان الله» کہا ) تو وہ سو حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہو جاتا ہے ۔ اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام میں اللہ کی حمد بیان کی ( یعنی «الحمدللہ» کہا ) اس نے تو ان فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے سو گھوڑے فراہم کئے ( راوی کو شک ہو گیا یہ کہا یا یہ کہا ) تو ان اس نے سو جہاد کئے ، اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو اللہ کی تہلیل بیان کی ( یعنی «لا إلہ الا اللہ» ) کہا تو وہ ایسا ہو جائے گا تو ان اس نے اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو «اللہ اکبر» کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہو گا ، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہو گا یا اس کے برابر کہا ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3471]
قال الشيخ الألباني: منكر، الضعيفة (1315)، المشكاة (2312 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (1 / 229) // ضعيف الجامع الصغير (5619) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (3471) إسناده ضعيف ¤ الضحاك بن حمزة: ضعيف (تق: 2966) وحديث النسائي فى عمل اليوم واليلة (821) مختلف من هذا وسنده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8719) (منکر) (سند میں ”ضحاک بن حمرہ“ سخت ضعیف ہے، اور یہ حدیث اصول اسلام کے خلاف ہے کہ اس میں معمولی نیکیوں پر حد سے زیادہ اجر وثواب ملنے کا تذکرہ ہے)
جامع الترمذي • حدیث #3471
3469 3470 3471 3472 3473

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3472 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ...
زہری کہتے ہیں کہ رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ ب...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ