جامع الترمذي حدیث نمبر: 3390
Jami at-Tirmidhi 3390
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
13: باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أُرَاهُ قَالَ فِيهَا: لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ” ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اس رات میں جو خیر ہے ، اس کا میں طالب ہوں ، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں ، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں ، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے ، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے ، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے “ ، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے ، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ” صبح کی ہم نے ، اور صبح کی ساری بادشاہی نے ، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے ، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3390]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2723)، سنن ابی داود/ الأدب 110 (5071) (تحفة الأشراف: 9386) (صحیح)