جامع الترمذي حدیث نمبر: 3387
Jami at-Tirmidhi 3387
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُبَيْدٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ وَيُقَالُ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے ، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے ( جلدی یہ ہے کہ ) وہ کہنے لگتا ہے : میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3387]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے ہوئے انسان یہ کبھی نہ سوچے کہ دعا مانگتے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا اور دعا قبول نہیں ہوئی، بلکہ اسے مسلسل دعا مانگتے رہنا چاہیئے، کیونکہ اس تاخیر میں بھی کوئی مصلحت ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2334)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 22 (6340)، صحیح مسلم/الزکر والدعاء 25 (2735)، سنن ابی داود/ الصلاة 358 (1484)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 8 (3853) (تحفة الأشراف: 12929)، وط/القرآن 8 (29)، و مسند احمد (2/396) (صحیح)