جامع الترمذي حدیث نمبر: 3384
Jami at-Tirmidhi 3384
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
9: باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ
باب: مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَالْبَهِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3384]
💡 وضاحت:
۱؎: سبھی اوقات سے یہ اوقات مستثنیٰ ہیں مثلاً: پاخانہ، پیشاب کی حالت اور جماع کی حالت، کیونکہ ان حالات میں ذکر الٰہی نہ کرنا، اسی طرح ان حالتوں میں مؤذن کے کلمات کا جواب نہ دینا اور چھینک آنے پر «الحمد للہ» نہ کہنا اور سلام کا جواب نہ دینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (302)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 19 (تعلیقا) صحیح مسلم/الطھارة 30 (373)، والحیض 30 (373)، سنن ابی داود/ الطھارة 9 (18)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 11 (303) (تحفة الأشراف: 16361)، و مسند احمد (6/70، 153، 178) (صحیح)