جامع الترمذي حدیث نمبر: 3383
Jami at-Tirmidhi 3383
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
9: باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ
باب: مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الْحَدِيثَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے ، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- علی بن مدینی اور کئی نے یہ حدیث موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3383]
💡 وضاحت:
۱؎: «لا إله إلا الله» افضل ترین ذکر اس لیے ہے کہ یہ اصل التوحید ہے اور توحید کے مثل کوئی نیکی نہیں، نیز یہ شرک کو سب سے زیادہ نفی کرنے والا جملہ ہے، اور یہ دونوں باتیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں، اور «الحمد لله» سب سے افضل دعا اس معنی کر کے ہے کہ جو بندہ اللہ کی حمد کرتا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ادا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «لئن شكرتم لأزيدنكم» ”اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا“، تو اس سے بہتر طلب (دعا) اور کیا ہو گی، اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ «الحمد لله» سے اشارہ ہے سورۃ الحمدللہ میں جو دعا اس کی طرف، یعنی «إهدنا الصراط المستقيم» اور یہ سب سے افضل دعا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3800)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 242 (831)، سنن ابن ماجہ/الأدب 55 (3800) (تحفة الأشراف: 2286) (حسن)