جامع الترمذي حدیث نمبر: 3366
Jami at-Tirmidhi 3366
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
93: باب وَمِنْ سُورَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: معوذتین سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا، فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا : ” عائشہ ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3366]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے ڈوبنے سے رات کی تاریکی بڑھ جاتی ہے اور بڑھی ہوئی تاریکی میں زنا، چوریاں بدکاریاں وغیرہ زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے اس سے پناہ مانگنے کے لیے کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، الصحيحة (372)، المشكاة (2475)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 116 (304) (تحفة الأشراف: 17703)، و مسند احمد (6/215) (حسن صحیح)