جامع الترمذي حدیث نمبر: 3360
Jami at-Tirmidhi 3360
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
89: باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ
باب: سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذْ عُرِضَ لِي نَهْرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ، قُلْتُ لِلْمَلَكِ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى طِينَةٍ فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَرَأَيْتُ عِنْدَهَا نُورًا عَظِيمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے ، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے ۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا ، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی ، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی ، میں نے وہاں بہت زیادہ نور ( نور عظیم ) دیکھا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس رضی الله عنہ سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3360]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 53 (6581) (تحفة الأشراف: 1154) (صحیح)