جامع الترمذي حدیث نمبر: 3304
Jami at-Tirmidhi 3304
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
59: باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَشْرِ
باب: سورۃ الحشر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: نَوِّمِي الصِّبْيَةَ، وَأَطْفِئِي السِّرَاجَ، وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا ، اس انصاری کے پاس ( اس وقت ) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا ( ایسا کرو ) بچوں کو ( کسی طرح ) سلا دو اور ( کھانا کھلانے چلو تو ) چراغ بجھا دو ، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو ، اس پر آیت «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» ” یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں “ ( الحشر : ۹ ) ، نازل ہوئی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3304]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ انصاری شخص ابوطلحہ رضی الله عنہ تھے، جیسا کہ صحیح مسلم میں صراحت ہے، اس واقعہ میں یہ بھی ہے کہ دونوں میاں بیوی اندھیرے میں برتن اپنے سامنے رکھ کر خود بھی کھانے کا مظاہرہ کر رہے تھے تاکہ مہمان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ بھی کھا رہے ہیں، چراغ بجھا دینے کی یہی حکمت تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 10 (3797)، وتفسیر سورة الحشر 6 (4889)، صحیح مسلم/الأشربة 32 (2054) (تحفة الأشراف: 13419) (صحیح)