جامع الترمذي حدیث نمبر: 3302
Jami at-Tirmidhi 3302
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
59: باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَشْرِ
باب: سورۃ الحشر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور کاٹ ڈالے ، اس جگہ کا نام بویرہ تھا ، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ” جو ان کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم ( و سالم ) چھوڑ دیا یہ سب کچھ اذن الٰہی سے تھا ، اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ ایسے فاسقوں کو رسوا کرے “ ( الحشر : ۵ ) ، نازل فرمائی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3302]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غزوہ بنو نضیر کا واقعہ ہے، جس میں ایک جنگی مصلحت کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے بعض کھجور کے درختوں کو کاٹ ڈالنے کا حکم دیا تھا، اس پر یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ دیکھو محمد دین الٰہی کے دعویدار بنتے ہیں، بھلا دین الٰہی میں پھلدار درختوں کو کاٹ ڈالنے کا معاملہ جائز ہو سکتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ یہ سب اللہ کے حکم سے کسی مصلحت کے تحت ہوا (ایک خاص مصلحت یہ تھی کہ یہ مسلمانوں کی حکومت اور غلبے کا اظہار تھا)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2844)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المزارعة 4 (2356)، والجھاد 154 (3020)، والمغازي 14 (3960)، صحیح مسلم/الجھاد 10 (1746)، سنن ابی داود/ الجھاد 91 (2615)، سنن ابن ماجہ/الجھاد (2844)، وسنن الدارمی/السیر 23 (2503) (صحیح)