📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3273 Jami at-Tirmidhi 3273
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
51: باب وَمِنْ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَّامٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ عِنْدَهُ وَافِدَ عَادٍ، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ وَافِدِ عَادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا وَافِدُ عَادٍ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، إِنَّ عَادًا لَمَّا أُقْحِطَتْ بَعَثَتْ قَيْلًا فَنَزَلَ عَلَى بَكْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَقَاهُ الْخَمْرَ وَغَنَّتْهُ الْجَرَادَتَانِ، ثُمَّ خَرَجَ يُرِيدُ جِبَالَ مَهْرَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ آتِكَ لِمَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ، وَلَا لِأَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ فَاسْقِ عَبْدَكَ مَا كُنْتَ مُسْقِيَهُ وَاسْقِ مَعَهُ بَكْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ يَشْكُرُ لَهُ الْخَمْرَ الَّتِي سَقَاهُ، فَرُفِعَ لَهُ سَحَابَاتٌ، فَقِيلَ لَهُ: اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ، فَاخْتَارَ السَّوْدَاءَ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا لَا تَذَرُ مِنْ عَادٍ أَحَدًا، وَذُكِرَ أَنَّهُ لَمْ يُرْسَلْ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ هَذِهِ الْحَلْقَةِ يَعْنِي حَلْقَةَ الْخَاتَمِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ {41} مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ {42} سورة الذاريات آية 41-42 الْآيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، وَيُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ.
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا : میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا ، اور میں نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے ؟ “ میں نے کہا : ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا ، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا ، بکر نے اسے شراب پلائی ، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں ، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا ( مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے ) اس نے ( دعا مانگی ) کہا : اے اللہ ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں ، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں ، تو اپنے بندے کو پلا ( یعنی مجھے ) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا ( اس نے یہ دعا کر کے ) اس شراب کا شکریہ ادا کیا ، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی ، ( انجام کار ) اس کے لیے ( آسمان پر ) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو ، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کر لیا ، کہا گیا : اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں ، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی ، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا ( آندھی ) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی ۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كالرميم» ” یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کر دیتی “ ( الذاریات : ۴۲ ) ، پڑھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے ، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے ، عاصم نے ابووائل سے اور ابووائل نے ( «عن رجل من ربیعة» کی جگہ ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے ۔ ( یہ روایت آگے آ رہی ہے ) ¤ ۲- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3273]
قال الشيخ الألباني: حسن الضعيفة تحت الحديث (1228)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجھاد 20 (2816) (تحفة الأشراف: 3277) (حسن)
جامع الترمذي • حدیث #3273
3271 3272 3273 3274 3275

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3274 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَان...
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا ، مسجد نبوی میں گیا ، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ