جامع الترمذي حدیث نمبر: 3257
Jami at-Tirmidhi 3257
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
46: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْقَافِ
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَأَى مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: وَمَا أَدْرِي، لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَى: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے ( اندر آتے باہر جاتے ) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے ، میں نے عرض کیا : ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ( صحیح ) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» ” جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے ، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی ( آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے ) “ ( الاحقاف : ۲۴ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3257]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2757)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 5 (3206)، وتفسیر الاحقاف 2 (4829) (تحفة الأشراف: 17386) (صحیح)