📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3256 Jami at-Tirmidhi 3256
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
46: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْقَافِ
🏷️ باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: " لَمَّا أُرِيدَ عُثْمَانُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ فِي نَصْرِكَ، قَالَ: اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّكَ خَارِجٌ خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلٌ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلَانٌ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ نَزَلَتْ فِيَّ: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10، وَنَزَلَتْ فِيَّ: قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 43 إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ نَبِيُّكُمْ، فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ، فَوَاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلَائِكَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ، فَلَا يُغْمَدُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَقَالُوا: اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ 10.
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب عثمان غنی رضی الله عنہ کو جان سے مار ڈالنے کا ارادہ کر لیا گیا تو عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ ان کے پاس آئے ، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا : تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں آپ کی مدد میں ( آپ کو بچانے کے لیے ) آیا ہوں ، انہوں نے کہا : تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو ، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے ، چنانچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا : لوگو ! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا ( یعنی حصین ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا ، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں ، میرے بارے میں آیت : «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ” بنی اسرائیل میں سے گواہی دینے والے نے اس کے مثل گواہی دی ( یعنی اس بات پر گواہی دی کہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے ) اور ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا ، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا “ ( الاحقاف : ۱۰ ) ، اور میرے ہی حق میں «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ” اے نبی کہہ دو ! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے ( اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ حق کیا ہے اور کس کے پاس ہے ) “ ( الرعد : ۴۳ ) ، آیت اتری ہے ، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی ، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے ، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں ، تو ڈرو اللہ سے ، ڈرو اللہ سے اس شخص ( عثمان ) کے قتل کر دینے سے ، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے ( بھگا دو گے ) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی ، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جا سکے گی ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے ( عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کی بات سن کر ) کہا : اس یہودی کو قتل کر دو ، اور عثمان رضی الله عنہ کو بھی مار ڈالو قتل کر دو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3256]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد // وسيأتي برقم (795 / 4073) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (3256) إسناده ضعيف / جه 3734 ويأتي:3803 ¤ ابن أخي عبدالله بن سلام: مجھول (تق:8494) لم يوثقة غير الترمذي فيما أعلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5344) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مجہول راوی ہے)
جامع الترمذي • حدیث #3256
3254 3255 3256 3257 3258

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3257 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھ...
#3258 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّع...
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا : کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ