جامع الترمذي حدیث نمبر: 3251
Jami at-Tirmidhi 3251
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
43: باب وَمِنْ سُورَةِ حم عسق
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَال: سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَعَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: " إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ” اے نبی ! کہہ دو میں تم سے ( اپنی دعوت و تبلیغ کا ) کوئی اجر نہیں مانگتا ، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو “ ( الشوریٰ : ۲۳ ) ، کے بارے میں پوچھا گیا ، اس پر سعید بن جبیر نے کہا : «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں ، ابن عباس نے کہا : ( تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے ) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو ، ( آیت کا مفہوم ہے ) اللہ نے کہا : میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ( بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3251]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 1 (3497)، وتفسیر سورة الشوری 1 (4818) (تحفة الأشراف: 5723) (صحیح)