جامع الترمذي حدیث نمبر: 3250
Jami at-Tirmidhi 3250
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
42: باب وَمِنْ سُورَةِ حم السَّجْدَةِ
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ: " إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا سورة فصلت آية 30 قَالَ: قَدْ قَالَ النَّاسُ: ثُمَّ كَفَرَ أَكْثَرُهُمْ فَمَنْ مَاتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مِمَّنْ اسْتَقَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: رَوَى عَفَّانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا، وَيُرْوَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَعْنَى اسْتَقَامُوا.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا» ( فصلت : 30 ) ۱؎ پڑھی ، آپ نے فرمایا : ” بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا ، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۴- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3250]
💡 وضاحت:
۱؎: ”(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کا خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا“ (حم السجدۃ: ۳۰)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (4079) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3250) إسناده ضعيف ¤ سھيل:ضعيف (تق:2672)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 423) (ضعیف الإسناد) (سند میں سہیل بن ابی حزم ضعیف راوی ہیں)