جامع الترمذي حدیث نمبر: 3230
Jami at-Tirmidhi 3230
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
38: باب وَمِنْ سُورَةِ الصَّافَّاتِ
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جَنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ: " وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ سورة الصافات آية 77 قَالَ: حَامٌ، وَسَامٌ، وَيَافِثُ "، كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى: يُقَالُ: يَافِتُ، وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ، وَيُقَالُ: يَفِثُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ” ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا “ ( الصافات : ۷۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ” ( نوح کے تین بیٹے ) حام ، سام اور یافث تھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں ، ¤ ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3230]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3230) إسناده ضعيف ¤ سعيد بن بشير: ضعيف (تقدم:2443)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4605) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کے سمرہ رضی الله عنہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)