جامع الترمذي حدیث نمبر: 3223
Jami at-Tirmidhi 3223
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
35: باب وَمِنْ سُورَةِ سَبَإٍ
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ فِي السَّمَاءِ أَمْرًا ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، قَالَ: وَالشَّيَاطِينُ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ ( حکم برداری کے جذبہ سے ) اپنے پر ہلاتے ہیں ۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے ، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : حق بات کہی ہے ۔ وہی بلند و بالا ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” شیاطین ( زمین سے آسمان تک ) یکے بعد دیگرے ( اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں ) لگے رہتے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3223]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ارشاد باری تعالیٰ «ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له حتى إذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير» (سبأ: 23) کی طرف اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (194)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر 1 (4701)، والتوحید 32 (7481)، سنن ابی داود/ الحروف 21 (3989)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (194) (تحفة الأشراف: 14249) (صحیح)