جامع الترمذي حدیث نمبر: 3222
Jami at-Tirmidhi 3222
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
35: باب وَمِنْ سُورَةِ سَبَإٍ
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ؟ فَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ وَأَمَّرَنِي، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، سَأَلَ عَنِّي: " مَا فَعَلَ الْغُطَيْفِيُّ؟ " فَأُخْبِرَ أَنِّي قَدْ سِرْتُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَّنِي، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " ادْعُ الْقَوْمَ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى أُحْدِثَ إِلَيْكَ "، قَالَ: وَأُنْزِلَ فِي سَبَإٍ مَا أُنْزِلَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا سَبَأٌ أَرْضٌ أَوِ امْرَأَةٌ؟ قَالَ: " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا: فَلَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَغَسَّانُ، وَعَامِلَةُ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا: فَالْأُزْدُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَحِمْيَرٌ، وَكِنْدَةُ، وَمَذْحِجٌ، وَأنْمَارٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَنْمَارُ؟ قَالَ: " الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمُ، وَبَجِيلَةُ "، وَرُوِيَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں ، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی ، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا ، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں ، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے ، تو میں آپ کے پاس آ گیا ، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگوں کو تم دعوت دو ، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو ، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو ، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا ( و تازہ ) حکم نہ بھیجوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : سبا کے متعلق ( کلام پاک میں ) جو نازل ہوا سو ہوا ( اسی مجلس کے ) ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! سبا کیا ہے ، سبا کوئی سر زمین ہے ، یا کسی عورت کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے ، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی ( انہیں منحوس جانا ) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ : لخم ، جذام ، غسان اور عاملہ ہیں ، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد ، اشعری ، حمیر ، مذحج ، انمار اور کندہ ہیں “ ، ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! انمار کون سا قبیلہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں “ ۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3222]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحروف 20 (3988) (تحفة الأشراف: 11023) (حسن صحیح)