جامع الترمذي حدیث نمبر: 3198
Jami at-Tirmidhi 3198
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ رَبَّهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟ قَالَ: رَجُلٌ يَأْتِي بَعْدَمَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَالْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.
شعبی کہتے ہیں : میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ” موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا : اے میرے رب ! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا ؟ اللہ فرمائے گا : جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا ، اس سے کہا جائے گا : تو بھی جنت میں داخل ہو جا ، وہ کہے گا : میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ ( پہلے پہنچ کر ) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں “ ، آپ نے فرمایا : ” اس سے کہا جائے گا : دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے ، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے ؟ وہ کہے گا : ہاں ، اے میرے رب ! میں راضی ہوں ، اس سے کہا جائے گا : تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور ، وہ کہے گا : میرے رب ! میں راضی ہوں ، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا ، میرے رب ! بس میں راضی ہو گیا ، تو اس سے کہا جائے گا : اس ( ساری بخشش و عطایا ) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ان میں سے بعض ( محدثین ) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے ۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، لیکن ( حقیقت یہ ہے کہ ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3198]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف نے یہ حدیث مذکورہ آیت ہی کی تفسیر ذکر کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 84 (189) (تحفة الأشراف: 11503) (صحیح)