جامع الترمذي حدیث نمبر: 3196
Jami at-Tirmidhi 3196
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
33: باب وَمِنْ سُورَةِ السَّجْدَةِ
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ الصَّلَاةِ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ” ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں “ ( السجدۃ : ۱۶ ) ، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں ، یعنی نماز عشاء ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3196]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث صحیح ہے، تو اسی کے مطابق اس سے مراد عشاء کی نماز لینی چاہیئے، (بعض لوگوں نے اس سے مراد تہجد کی نماز کو لیا ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (1 / 160)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1662) (صحیح)