جامع الترمذي حدیث نمبر: 3189
Jami at-Tirmidhi 3189
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
30: باب وَمِنْ سُورَةِ الْعَنْكَبُوتِ
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً، فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِالْبِرِّ؟ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي سورة العنكبوت آية 8 الْآيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں ، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا ، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا : کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے ؟ ۱؎ قسم اللہ کی ! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ ۔ ( سعد ) کہتے ہیں : جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے ، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ” ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو “ ( العنکبوت : ۸ ) ، نازل ہوئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3189]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سعد رضی الله عنہ کی مشرک و کافر ماں ان کو ”اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے“ کے حکم سے حوالے سے کفر و شرک پر ابھار رہی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3079 (صحیح)