جامع الترمذي حدیث نمبر: 3187
Jami at-Tirmidhi 3187
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
28: باب وَمِنْ سُورَةِ النَّمْلِ
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مَعَهَا خَاتَمُ سُلَيْمَانَ وَعَصَا مُوسَى فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ، وَتَخْتِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخُوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ، فَيَقُولُ: هَاهَا يَا مُؤْمِنُ، وَيُقَالُ: هَاهَا يَا كَافِرُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ فِي دَابَّةِ الْأَرْضِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے قریب زمین سے ) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ( مہر ) اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا ، وہ اس عصا سے ( لکیر کھینچ کر ) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا ، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے تو یہ کہے گا : اے مومن اور وہ کہے گا : اے کافر ! ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- «دابة الأرض» کے سلسلے میں اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ابوامامہ اور حذیفہ بن اسید سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3187]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف اس حدیث کو ارشاد باری «وألق عصاك» (النمل: ۱۰) کی تفسیر ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (1108) // ضعيف الجامع الصغير (2413)، ضعيف ابن ماجة (881 / 4066) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3187) إسناده ضعيف / جه 4066 ¤ علي بن زيد بن جدعان: ضعيف (تقدم:589) وأوس بن خالد: مجھول (تقدم:3142)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 31 (4066) (تحفة الأشراف: 12202)، و مسند احمد (2/295، 491) (ضعیف) (سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف، اور ”اوس بن خالد“ مجہول ہے)