📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3169 Jami at-Tirmidhi 3169
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
23: باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَجِّ
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فِي السَّيْرِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 "، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ يُنَادِي اللَّهُ فِيهِ آدَمَ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ، فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ "، فَيَئِسَ الْقَوْمُ حَتَّى مَا أَبَدَوْا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِأَصْحَابِهِ، قَالَ: " اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ، قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ، فَقَالَ: " اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے ، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں : «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی ، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی ، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ “ ، صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے ، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : «ابعث بعث النار» ” بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو “ ، آدم علیہ السلام کہیں گے : اے ہمارے رب ! «بعث النار» ” کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟ “ اللہ کہے گا : ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، یہ سن کر لوگ مایوس ہو گئے ، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی یہ ( مایوسانہ ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا : ” اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہو جاؤ ( اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہو جائیں اس کی تعداد بڑھا دیں ، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے ( حالت کفر میں ) مر چکے ہیں ، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے ۔ “ آپ نے فرمایا : ” نیکی کا عمل جاری رکھو ، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ ( جیسے بڑے جانور ) کے پہلو ( پسلی ) میں کوئی داغ یا نشان ہو ، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3169]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بہت زیادہ گھبرانے کی بات اور ضرورت نہیں ہے، جب اکثریت انہیں کفار و مشرکین کی ہے تو جہنم میں بھی وہی زیادہ ہوں گے، ایک آدھ نام نہاد مسلم جائے گا بھی تو اسے اپنی بدعملی کی وجہ سے جانے سے کون روک سکتا ہے، اور جو نہ جانا چاہے وہ اپنے ایمان و عقیدے کو درست رکھے شرک و بدعات سے دور رہے گا اور نیک و صالح اعمال کرتا رہے، ایسا شخص ان شاءاللہ ضرور جنت میں جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: (3169) ضعيف ¤ قتادة عنعن (تقدم:30) والحسن عنعن (تقدم: 21) وانظر الحديث السابق:3168
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3169
3167 3168 3169 3170 3170

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3168 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ...
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم...
#3170 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّ...
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خانہ کعبہ کا نام...
#3170 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّ...
اس سند سے زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 317...
#3171 وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر...
#3171 وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ...
اس کو عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے سفیان سے ، سفیان نے اعمش سے ، اعمش نے مسلم بطین سے مسلم نے سعید بن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ