جامع الترمذي حدیث نمبر: 3120
Jami at-Tirmidhi 3120
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
15: باب وَمِنْ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ: " فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے “ ( ابراہیم : ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ” ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا : «من ربك ؟ » تمہارا رب ، معبود کون ہے ؟ «وما دينك ؟ » تمہارا دین کیا ہے ؟ «ومن نبيك ؟ » تمہارا نبی کون ہے ؟ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3120]
💡 وضاحت:
۱؎ مومن بندہ کہے گا: میرا رب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 86 (1369)، وتفسیر سورة ابراہیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن ابی داود/ السنة 27 (4750)، سنن النسائی/الجنائز 114 (2059)، سنن ابن ماجہ/الزہد 32 (4269) (تحفة الأشراف: 1762) (وانظر أیضا ماعند د برقم 3212، و4853) (صحیح)