جامع الترمذي حدیث نمبر: 3095
Jami at-Tirmidhi 3095
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
10: باب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ غُطَيْفِ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " يَا عَدِيُّ، اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الْوَثَنَ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ سورة التوبة آية 31، قَالَ: " أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَغُطَيْفُ بْنُ أَعْيَنَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي الْحَدِيثِ.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی ، آپ نے فرمایا : ” عدی ! اس بت کو نکال کر پھینک دو ، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت : «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» ” انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے “ ( التوبہ : ۳۱ ) ، پڑھتے ہوئے سنا ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے ، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے ، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف عبدالسلام بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- غطیف بن اعین حدیث میں معروف نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3095]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح وہ احبار و رہبان حلال و حرام ٹھہرا کر اللہ کے اختیار میں شریک بن گئے، اور اس حلال و حرام کو ماننے والے لوگ مشرک اور ان احبار و رہبان کے ”عبادت گزار“ قرار دئیے گئے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3095) إسناده ضعيف ¤ غطيف: ضعيف (تق: 5364) وللحديث شاھد موقوف عندالطبري فى تفسيرة (81/10) وسنده ضعيف منقطع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9877) (حسن) (سند میں غطیف ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)