جامع الترمذي حدیث نمبر: 3067
Jami at-Tirmidhi 3067
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
7: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ؟ قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی “ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے ، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے ، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی ؟ انہوں نے کہا تھا : «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ” اے میرے بیٹے ! شرک نہ کر ، شرک بہت بڑا گناہ ہے “ ( لقمان : ۱۳ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3067]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 23 (32)، وأحادیث الأنبیاء 8 (3360)، و41 (3428، 3429)، تفسیر الإنعام ولقمان 1 (4776)، والمرتدین 1 (6918)، و9 (6937)، صحیح مسلم/الإیمان 56 (124) (تحفة الأشراف: 9420) (صحیح)